اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت بین الاقوامی پانیوں میں گلوبل فلیٹ صمود میں شامل لانچوں اور کشتیوں کو اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی من مانی حراست اور غیر انسانی سلوک کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی انسانی حقوق کے کارکن سعد ایدھی بھی حراست میں لیے گئے افراد میں شامل ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک تمام زیر حراست کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے وہ صمود فلوٹیلا کے عملے کے تحفظ، وقار اور بنیادی حقوق کو یقینی بنائے۔
طاہر انداربی کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزارت خارجہ خطے میں اپنے سفارتی مشنوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی زیر حراست پاکستانی شہری کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ارنا کے مطابق، اسرائیلی حکومت کے قومی سلامتی کے وزیر، Itamar Ben-Giver نے اس سے قبل ایک ویڈیو جاری کی تھی جس سے صمود فلوٹیلا کے زیر حراست کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کے ہتک آمیز سلوک کی نشاندھی ہوتی ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی منگل کی شام یہ اعلان کیا کہ گلوبل فلوٹیلا صمود کے تمام کارکنوں کی گرفتاری اور ان کی اسرائیلی بحریہ کے جہازوں میں منتقلی مکمل کر لی گئی ہے۔
گلوبل فلوٹیلا صمود کے منتظمین کے مطابق، اسرائیلی فوج نے فلوٹیلا کی تقریباً 50 کشتیوں پر حملہ کیا ہے جن میں 44 ممالک کے 428 کارکن سوار تھے۔
اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کی ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی، اور اسے "شرمناک اور غیر انسانی فعل" قرار دیا تھا۔
اسرائیلی حکومت اس سے قبل بھی متعدد بار غزہ جانے والی امدادی کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکتی اور کارکنوں کو گرفتار کرتی رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ